مولا علی کرم اللہ وجہہ کا خوبصورت قصہ
مولا علی کا ایک واقعہ
ایک مرتبہ مولا علی جنگ نہروان کےلیے اپنے گھوڑے پر سوار ہو رہے ہوتے ہیں کہ ایک نجومی مولا علی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اے علی یہ جنگ آپ مت لڑیں کیونکہ آپ کا ستارہ گردش میں ہے آپ یہ جنگ بری طرح ہار جائیں گے مولا علی اُس کی بات سن کر
گھوڑے سے نیچے آجاتے ہیں اور اُس نجومی کو کہتے ہیں اچھا تم ستاروں کے حال جانتے ہو اُس نے کہا ہاں میرا کام یہی ہے میں ستاروں کو دیکھ کرانسان کا حال بتا سکتا ہوں اور آپ کا ستارہ گردش میں ہے اسی لیے آپ کو بتایا کر آپ یہ جنگ ہار جاؤ گے
مولا علی نے اُس نجومی کو کہا اچھاوہ سامنے ایک گھوڑی ہے جو پیٹ سےہے بتاؤ اُس کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ ہے اب وہ نجومی خاموش مولا علی نے
کہا تم تو کہہ رہے تھے کہ میں ستاروں کے حال جانتا ہوں یہ تو تمہاری نظروں کہ سامنے ہے تم تو اس کا حال بھی نہیں جانتے مولا علی نے کہا اچھا بتاؤ کون
سا ستارہ جب ٹوٹتا ہے تو اونٹ پر ایک حرکات ظاہر ہوتی ہے اب پھر وہ نجومی خاموش مولا علی نے کہا اچھا اس میرےگھوڑے کے پاؤں کے نیچے زمین پر ایک چیز ہے بتاؤ وہ کیا ہے نجومی خاموش مولا علی نے کہا تم آسمان کے تو کیا زمین پر تمہاری نظروں کے جو سامنے ہے وہ بھی نہیں جانتے ۔ سنو اے شخص
میں علی اب تجھے بتاتا ہوں علی کی زندگی کی سب سے کامیاب یہ جنگ ہوگی میرے 10 لوگ بھی اس جنگ میں نہیں شہید ہونگے اور میرے مخالف
کے 10 لوگ بھی نہیں بچیں گے اور پھر
تاریخ میں ہے کہ جنگ نہروان میں مولا علی کا کوئی ساتھی بھی شہید نہیں ہوا تھا اور مولا علی کے مخالف کےصرف 9 آدمی بچے تھے۔
قصہ نمبر 2
مولا علیؓ کا خوبصورت واقعہ
ایک دن مولا علیؓ اور حضرت حسنؓ، حضرت حسینؓ کے ساتھ بازار گئے۔ راستے میں ایک غریب عورت اپنے بچوں کے ساتھ کھڑی تھی۔ اُس کے بچے بھوکے تھے اور اُس کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔
مولا علیؓ نے فوراً اپنی زمین سے کچھ کھانے کا انتظام کیا اور غریب عورت کو دیا۔ عورت نے حیرت اور خوشی کے ساتھ کہا: "یا علیؓ! یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ کے پاس بھی بھوک مٹانے کے لیے وسائل ہوں اور آپ اتنے عاجز بھی ہیں؟
مولا علیؓ نے مسکرا کر کہا: جو انسان اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ اُس کی کمی پوری کر دیتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ غریبوں اور محتاجوں کی مدد کرنا ایمان کا حصہ ہے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
FAQs (اکثر پوچھے جانے والے سوالات)
سوال 1: مولا علیؓ کی سب سے مشہور خصوصیت کیا تھی؟
جواب: مولا علیؓ کی سب سے مشہور خصوصیت ان کا عدل، شجاعت اور غریبوں کی مدد کرنا تھا۔
سوال 2: یہ واقعہ کس سے متعلق ہے؟
جواب: یہ واقعہ مولا علیؓ کی سخاوت اور انسانیت کی خدمت کے بارے میں ہے۔
سوال 3: ہم اس واقعہ سے کیا سبق سیکھ سکتے ہیں؟
جواب: ہمیں چاہیے کہ ہم بھی غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں اور اللہ کی رضا کے لیے خرچ کریں۔
فائنل ورڈ
مولا علیؓ کا یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سچائی، عدل اور دوسروں کی مدد کرنا سب سے بڑی انسانیت ہے۔ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے چھوٹا یا بڑا کوئی بھی نیکی عمل کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ ہر انسان اپنے عمل سے دنیا اور آخرت میں بہتری لا سکتا ہے۔ آئیے ہم بھی مولا علیؓ کی طرح دوسروں کے لیے ہاتھ بڑھائیں اور اپنی زندگی کو محبت، سخاوت اور خدمت سے روشن کریں۔
0 Comments