2024 میں زکات کا نصاب کیا ہے اور فطرانہ کتنا ہے؟

رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی یہ سوال سب کے ذہنوں میں ہوتا ہے اور ہر کوئی اسکا جواب چاہتا ہے

2024 میں اس کا جواب پیش ہے 

فطرانہ کی تعداد







زکوۃ کے نصاب کی تفصیل یہ ہے:


اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا، اور صرف چاندی ہو تو  ساڑھے باون تولہ چاندی،  یا دونوں میں سے کسی ایک کی مالیت کے برابر نقدی  یا سامانِ تجارت ہو ،  یا یہ سب ملا کر یا ان میں سے بعض ملا کر مجموعی مالیت چاندی کے نصاب کے برابر بنتی ہو تو ایسے  شخص پر  سال پورا ہونے پر قابلِ زکوۃ مال کی ڈھائی فیصد زکات ادا کرنا لازم ہے۔


 واضح ہوکہ زکوۃ کا مدارصرف ساڑھے سات تولہ سونے پراس وقت ہے کہ جب کسی اور جنس میں سے کچھ پاس نہ ہو، لیکن اگر سونے کے ساتھ ساتھ کچھ اور مالیت بھی ہےتوپھرزکوۃ کی فرضیت کا مدار ساڑھے باون تولہ چاندی پرہوگا۔

جبکہ فطرانہ شرح اسلامی شریعت کے مطابق اہم کھانے کی اشیاء جیسے آٹا، کھجور،پنیر یا جو یا کشمش،  کی قیمتوں پر مبنی ہے۔

صدقہ فطر کی اہمیت معاشرے کے غریب اور نادار لوگوں کی مدد کرنے میں مضمر ہے، خاص طور پر عید الفطر کے تہوار کے موقع پر۔ یہ فطرانہ عید الفطر کے دوران غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتا ہے اور متقی مسلمانوں کے لیے اپنے مسلمان بھایوں کی مدد کرنے اور اللہ تعالی سے برکت حاصل کرنے کا ایک طریقہ ہے


صدقہ فطر کی مقدار

2024

صدقہ فطر کی کم از کم رقم، ایک واجب خیراتی عطیہ جو کہ متقی مسلمانوں کو رمضان کے مقدس مہینے میں ادا کرنا ہوتا ہے، روپے مقرر کیے گیے ہیں۔ ممتاز عالم دین اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے رواں سال کے لیے 300 روپے فی کس کا اعلان کیا۔ یہ شرح اسلامی شریعت کے مطابق اہم کھانے کی اشیاء جیسے آٹا، کھجور، کشمش، پنیر یا جو کی قیمتوں پر مبنی ہے ۔


مفتی منیب الرحمان کے مطابق 2.25 کلو گرام آٹے کی مارکیٹ قیمت فطرانہ کی رقم کا تعین کرتی ہے، جس کا حساب 10 روپے ہے۔300 فی سر جو مسلمان جو اور کھجور کی قیمت کے برابر فطرانہ ادا کرنا چاہتے ہیں وہ کم از کم 600روپے ادا کریں۔ 


صدقہ فطر کے نصاب کی تفصیل یہ ہے:


گندم: 300

جو: 600روپے

کھجور: 2400روپے

کشمش: 4400روپے