صدقہ فطر کی فضیلت
صدقہ فطر ادا کرنے سے جہاں ایک شرعی حکم کو پورا کرنے کا ثواب ملتا ہے وہاں اس کے کئی اور فائدے بھی ہیں صدقہ فطر روزوں کو پاک صاف کرنے کا ذریعہ ہے ۔ روزے کی حالت میں جوفضول یا بیہودہ باتیں زبان سے نکلتی ہیں اس فطرانے کی ادائی سے روزے ان چیزوں سے پاک ہوکر اللہ تعالی کی بارگاہ میں ایسے مقبول ہو جاتے ہیں کہ ان کی قبولیت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ۔
اسی طرح صدقہ فطر سے عید کے دن ناداروں اور مسکینوں کی خوراک و پوشاک کا انتظام ہو جا تا ہے اور عید کی خوشیوں میں ان کو بھی شامل کر لیا جاتا ہے۔اس کی ادائی سے اللہ تعالی مال اور رزق میں برکت اور کام یابی عطا فرماتے ہیں ۔ اس لیے بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ اگر مسئلہ کی رو سے کسی پر صدقہ فطر واجب نہ بھی ہوتو اسے بھی صدقہ فطر کے فضائل اور فوائد کو سامنے رکھ کر ادا کر لینا چاہیے
۔ صدقہ فطر کس پر واجب ہے اور کن افراد کی طرف سے واجب ہے ۔
.. ؟
ہر وہ مسلمان جس کی ملکیت میں پانچ چیزوں ( سوناء چاندی ، نقد رقم ، مال تجارت اور ضرورت سے زاید تمام اشیاء ) میں سے کوئی ایک یا ان پانچوں کا مجموعہ ساڑھے باون تولا چاندی کی قیمت کے بقدر ہو جاۓ ، خواہ اس نصاب پر پورا سال گزرا ہو یا نہ گزرا ہو ، تو اس پر اپنی طرف سے اور زیر کفالت نابالغ بچوں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے اور ایسے عمل کے لیے جو اس مذکورہ نصاب کا مالک ہو لینا جائز نہیں ۔ زکوۃ ، صدقہ فطر اور صدقات واجبہ * اگر باپ نہ ہو یا تنگ دست ہوتو دادا باپ کے قائم مقام ہوگا یعنی اس پر واجب ہوگا کہ اپنے ۔ نا بالغ پوتے اور پوتیوں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے ، اگر نا بالغ پوتے اور پوتیاں مال دار نہ ہوں اور اگر وہ مال دار ہوں تو ان کے مال سے ادا کرے گا ۔ مرد کے ذمے نابالغ اولاد کے علاوہ کسی اور رشتے دار مثلا بیوی ، بالغ اولاد ، بہن ، بھائی غرض کسی بھی دوسرے رشتے دار کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا واجب نہیں اگر چہ یہ اس کے زیر کفالت ہوں مثلا چھوٹے بھائی ، بہن وغیرہ ، البتہ بالغ اولا د اور بیوی کا فطرانہ ان سے اجازت لیے بغیر ادا کر دیا تو ادا ہو جاۓ گا بشرطیکہ بالغ اولاد اس کے عیال میں ہو ۔ اگر عورت خود صاحب نصاب ہو جو کہ عموما زیورات وغیرہ کی وجہ سے ہوتی ہے چاہے زیورات استعمال میں ہوں یا نہ ہوں تو صدقہ فطر کی ادائی کی خود ذمے دار ہے شوہر کے ۔ ذمے لازم نہیں
اگر شوہر بیوی کی طرف سے ادا کریں کریں تو صدقہ فطر ادا ہو جائے گا اگر عورت نصاب کی مالک نہیں تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں
اگر کوئی مقروض ہو تو ان پانچوں قسم کے مال کی قیمت لگائے پھر اس میں سے قرض کی رقم نکال کر دیکھے تو اگر بقیہ رقم مزکورہ نصاب کے برابر ہے تو صدقہ فطر واجب ہوگا ورنہ واجب نہیں اور جو قرض دوسروں پر ہو اس کے ملنے کی امید ہو اس کو نقدر قم میں شمار کیا جائے گا
جن لوگوں نے سفر یا بیماری کی وجہ سے یا ویسے ہی غفلت کی وجہ سے روزے نہیں رکھے صدقہ فطر ان پر بھی واجب ہے اگر وہ صاحب نصاب ہیں
جو بچہ ایک یار صبح صادق سے پہلے پیدا ہوا اس کا صدقہ فطر لازم ہے اور جو عید کی رات صبح صادق سے پہلے مر گیا تو اس کا صدقہ فطر لازم نہیں
ماں کی ذمہ بچوں کا صدقہ فطر لازم نہیں خواں ماں مالدار ہی کیوں نہ ہو
صدقہ فطر کے واجب ہونے کا وقت اگرچہ عید کے دن کا صبح صادق ہے لیکن اگر کوئی اس سے پہلے رمضان میں دے دیں تب بھی ادا ہو جاتا ہے اگر کسی نے رمضان میں نہ ادا کیا اور نہ عید کے دن تو بعد میں بھی ادا کرنا واجب ہے معاف نہیں ہوگا خواہ کتنا ہی زمانہ گزر جائے عمر بھر رہے گا جب عمر بھر یہ واجب اس کے زمے میں رہے گا عید سے تاخیر کرنا مکرو تاخیر ہونے پر استغفار کرنا چاہیے
صدقہ فطر کن چیزوں سے ادا ہو گااور ان کی واجب مقدار
حدیث میں صدقہ فطر وزن کے اعتبار سے چار اقسام کی چیزوں سے ادا کرنے کا ذکر ملتا ہے
ایک کشمکش ،چھوہارے،جوہ سے،اور چوتھے گندم سے
ان میں سے کسی ایک چیز کو قیمت ادا کرنا درست ہے
گنا میں صدقہ فطر کی مقدار پونے دو کلو یہ اس کی قیمت ہے
کشمش جاؤ اور کھجور اور ساڑھے تین کلو یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت
خاص طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صدقہ فطرانہ صرف گندم کے ساتھ خاص ہے باقی تین چیزوں کا علم بھی نہیں ہوتا جن لوگوں اللہ نے توفیق دی ہے ان کو چاہئے کہ وہ ان چیزوں میں سے جو چیز مالی اعتبار سے سب سے اعلیٰ ہو اس کے ساتھ صدقہ فطرانہ ادا کریں تاکہ غریب کی حاجتیں پوری ہوں اور آپکو ثواب حاصل ہو
صدقہ فطر کن لوگوں کو دیا جائے؟
صدقہ فطر کو اس کے صحیح شرعی مصرف میں لگانا صدقہ فطر ادا کرنے والے کی شرعی زمہ داری ہے میں صدقہ فطرانہ ان غریبوں کو دیا جا سکتا ہے جنکو زکوۃ دینا درست ہو جس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی ملیت کے برابر سونا چاندی نقدی رقم مال تجارت یا ضرورت سےزیادہ سامان نہ ہو تو اسے صدقہ دیا جا سکتا ہے
جن لوگوں سے یہ پیدا ہوا جیسے ماں باپ نانی نانا دادا دادی اور اسی طرح جو اس کی اولاد ہے جیسے بیٹی بیٹا پوتا پوتی نواسی نواسا ان کو صدقہ فطر دینا جائز نہیں
اسی طرح شوہر بیوی کو اور بیوی شوہر کو نہیں دے سکتی باقی سب رشتہ داروں کو دیا جا سکتا ہے
مستحق اور غریب رشتے داروں کو دینے کا پورا ثواب ملتا ہے
زکوۃ دوسرے واجبات کی تنہائی صدقے کے خدا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کسی غریب کا مالکانہ طور پر دیا جائے چنانچہ مسجد مدرسے شفاخانہ پل کنویں رفاحی ادارے تعمیر میں خرچ کرنا جائز نہیں
0 Comments